یوم شھداء باجوڑ تحریر مولانا عبدالرشید صاحب
والد محترم کا 30 جولائی کو ہونے والی دل چیرنے والے واقعے کی دل چیرنے والے الفاظ کیساتھ منظر کشی،😭
30 جولائی یوم شہداء باجوڑ
کائنات کے عظیم ضحیم کتاب کے جس صفحے کا مطالعہ قرن حاضر کے لوگ کر رہے ہیں اس کتاب کے گزرے ہوے پلٹ شدہ اکثر صفحات کے مطالعے سے نمبر وار انسانیت فارغ ہوکر باقی ماندہ تھوڑے سے سطور کے مطالعے کے منتظر ہیں،اور اس کے ساتھ کائنات کی یہ کتاب اور داستاں ھمیشہ کے لیے ختم ہونے والا ہے۔
اس مطالعہ شدہ کتاب کے ابواب میں مختلف النوع اور متضاد قسم کے مسائل ، حالات ، واقعات اور داستانیں نظر قاصر سے گزرے ہیں،ایک باب میں اگر چراغ ھدایت روشن کرنے کے لیے افتاب نبوت نظر اتا ہے تو دوسرے باب میں ضلالت کی وادی تیۀ میں ظلمت طاعوتیت نظر اتا ہے، ایک باب میں جرأت تو دوسرے میں بزدلی ، ایک میں سخاوت تو دوسرے میں بخل ایک میں انسانیت تو دوسرے میں حیوانیت ایک میں ذکاوت تو دوسرے میں بلادت، علی ھذ القیاس۔
اس کتاب کے اوراق میں ہم نے شھادت عثمان ، واقعہ کربلا ، سقوطِ بغداد ،یزید ، حجاج بن یوسف ، تاتار، ہلاکوخان ، چنگیز خان وغیرہ جیسے درندہ صفت ظالموں کے ظلم و جبر و بربریت کے دل سوز ناقابلِ برداشت واقعات کا مطالعہ کیا ہے لیکن ان تاریخی واقعات کا بنیاد نقل اور مطالعہ تھا مشاہدے سے ان کا تعلق نہیں تھا ۔
اس لیے ان کی حیثیت ذھنی تخیل اور عقلی تصور تھا ۔
اب عصر حاضر میں، مطالعہ مشاہدے میں متصور موجود اور معقولِ محسوس میں تبدیل ہوا
ہزار ہاں انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی بیہمانہ قتل کے ناگفتہ به واقعات نظر سے گزرے ۔
ڈمہ ڈولہ مدرسہ میں 80 طلباء کے بے رحمانہ شھادت ، لال مسجد کے علماء و طلباء پر ظلم و جبر، آرمی پبلک سکول کے ننھے معصوم بچوں کی خون ریزی جیسے سینکڑوں واقعات نے دلوں پر نہ مٹنے والے کرب و غم کے نقوش ثبت کیے ہیں۔
تیس 30 جولائی والا سانحہ ایک ایسا انوکھا اور ناقابلِ فراموش واقعہ ہے جس نے ظلم و جبر کی کتاب میں ایک عظیم باب کا اضافہ کیا ۔
وہ منظر آنکھوں کے سامنے اب بھی ویسا کا ویسا ہی ہے کہ 30 جولائی کا دن ہے
علم و فھم ، حکمت و دانش ، ذکر و فکر اور دعوتِ دین پر مشتمل ایک علمی، تربیتی، روحانی اور نورانی مجلس سجایا گیا ہے، نورانیت اور روحانیت سے مرصع اس اجتماع کے شرکاء ورثۃ الانبیاء علماء کرام، خطباء عظام، قراء، طلباء کرام ، خدّام الدین اور عشّاق رسول ہیں ۔
ہر شریک مجلس کے دل میں صحبت علماء کی تڑپ ، شعف دین ، عشق مصطفی کے جذبے میں موجزن اور مشتعل ہوکر حاضری لگائی ہے ۔
سٹیج سے کبھی قال اللہ قال الرسول کا صدا بلند ہورہا تو کبھی مداحانِ رسول اپنی عاشقانہ کلام سے عاشقانِ رسول کے دلوں کو گرماتے ہیں ۔کبھی تلاوت کلام پاک سے مجلس پر سکون اور وجدانی کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو کبھی توحید اور تکبیر کے فلک شگاف نعروں سے شرکاء مجلس کے جذبات بھڑک رہے ہیں۔
نورانیت کا یہ فلک علماء طلباء جیسے ستاروں سے چمکدار ،
روحانیت کا یہ گلستاں ان جیسے پھولوں سے خوشبودار مہکتا ہوا، اور علمیت کا یہ گلشن، بلبلانِ توحید کے نغموں سے گرجدار نظر آتا ہے ۔
کس کو کیا پتہ کہ تھوڑی دیر بعد علم و عرفان کا یہ پر امن اور منور ماحول واقعہ کربلا کا منظر پیش کرنے والا ہے۔
نہ کسی کو یہ پتہ ہے کہ میرے بدن کے اجزاءِ مجتمعہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اجزاءِ منتشرہ میں تبدیل ہونے والے ہیں ۔ نہ یہ معلوم کہ میرے بدن کی عشق مصطفی سے بھری ہوئی معصوم خون کس ظالم کے ہوس کا نشانہ بننے والا ہے ۔میرا روح کچھ دیر بعد ملا اعلیٰ کے طرف جانے والا ہے ۔بلکہ ارادات قلبی اور خیالات ذهنی یہ تھے کہ اجتماع کے فیوضات اور برکات سے دامن بھر کر واپس اپنے باپ ، ماؤں ، بیویوں، بھنوں ، بھائیوں اور بچوں کے آغوش محبت میں بیٹھ کر انکے لیے سرور قلبی، لذت ظاہری اور قرة عينی کا سبب بن جائنگے ۔
لیکن افسوس کہ اس تمناؤں کے برعکس سفاک قاتل کے آنکھوں میں حقائق تبدیل ہوے اور ورثۃ الانبیاء کے اس اجتماع کو ملحدین، مشرکین، دھریہ اور محاربین کا مجمعہ سمجھ کر اس کو جبر و ہوس کا نشانہ بنایا ۔ دھماکے کے بعد دل شکن مناظر قابل ذکر نہیں ۔ ہر طرف سے معصوم علماء، طلباء، نوجوان اور بچوں کے چیخ پکار سنائی دے رہے ہیں ۔ پورا میدان خون کی ندیوں سے بھرا نظر آرہا ہے ۔پھولوں کی طرح طلباء بغیر کسی جرم اپنے خون میں تڑپ تڑپ کر جام شہادت نوش کر رہے ہیں، جلسہ گاہ قتل گاہ میں تبدیل ہوا ہر طرف شھیدوں اور زخمیوں کے ابدان مبارکہ کے ڈھیریں لگے ہوے ہیں۔ اپنے بیٹوں، بھائیوں اور شوہروں کے منتظر آبا، مائیں، بہنیں اور بیویوں کو خون میں لت پت لاشیں مل گئے جبکہ چند بدقسمتوں کو اپنے پیاروں کے لاشیں بھی بھی نصیب نہیں ہوے، ہر گھر میں غم وکرب کا سماں تھا پورا باجوڑ سوگوار تھا، غم کی چادر پورے خطے پر پھیلا ہوا تھا ، بندہ ناچیز ان تمام مناظر کا چشم دید گواہ ہے ۔
قصہ مختصر یہ کہ اس اندوہناک واقعے کا ایک سال پورا ہونے والا ہے دل کی زخم اسی طرح تازہ ہیں، واقعہ آنکھوں کے سامنے محسوس ہو رہا ہے، ایک ایک ساتھی کیساتھ زندگی کے جو یادگاریں وابستہ ہیں یاد آنے سے یقیناً دل خون کی آنسؤں رو رہا ہے ۔
سال گزرنے کیساتھ کچھ شکایات نے دل کے منقش زخموں پر نمک چھڑانے کا کام کیا، ابھی تک نہ قاتل اپنے عمل پر شرمندہ اور نادم ہے بلکہ اس عمل کو جاری رہنے کے در پے ہے ۔
نہ ہمارا ریاست اس تاریخی، ظالمانہ اور بیہمانہ واقعے پر ایکشن لینے کیلئے تیار ہے بلکہ خاموش تماشائی بن کر علماء کے قتل عام پر لذت اور خوشی محسوس کرتا ہے ۔
سینکڑوں بیویوں اور بچوں کے سروں پر دست شفقت رکھنا گناہ کبیرہ سمجھتا ہے اور اپنی آئینی زمہ داریوں کو نظر انداز کر کے حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں میں مصروف ہے ۔
قوم اور عوام نے بھی ان متاثرہ خاندانوں اور مظلوم طبقے کیساتھ وہ ھمدردی نہیں دکھائی جس کے یہ مستحق ہیں بس و الی اللہ المشتکی
ہمارا عقیدہ ہے کہ ظالم سے بدلہ لینے والا بڑا ذات بھی موجود ہے ، ان حکمرانوں سے عظیم حاکم بھی موجود ہے اور ان عدالتوں سے بڑا انصاف کیلئے ایک عظیم عدالت بھی موجود ہے وہاں ہم یہ مقدمہ اٹھائیں گے ۔
کارکنوں کو پیغام ہے کہ 30 جولائی یوم سیاہ کے طور پر منائیں ، شھداء کے ارواح کے ایصال ثواب کیلئے ختم القرآن وغیرہ کا اھتمام کریں ، سوشل میڈیا کی ساتھی اس واقعے کو 30 جولائی تک میڈیا کا موضوع بنائیں اور اگر ہو سکے تو جگہ جگہ 30 تاریخ کو تقریبات کا اہتمام بھی کریں ۔
بندہ ناچیز عبد الرشید عفی عنہ

Comments
Post a Comment